سرورق / ادارتی پالیسی
ادارتی پالیسی
وہ اصول جن پر ہر صفحہ حتمی صورت میں پیش کیے جانے سے پہلے پرکھا جاتا ہے۔
ماخذ مقدم ہے
ہم عربی، فارسی اور اردو کے بنیادی متون اور ان پر بہترین جدید تحقیق سے آغاز کرتے ہیں۔ ہر وہ بات جسے قاری جانچنا چاہے، اپنے ماخذ کے ساتھ آتی ہے، اسی بات کے پہلو میں جس کی وہ تائید کرتا ہے۔
قرآنِ کریم
ہر آیت مصحف سے نقل کی جاتی ہے اور سورت اور آیت نمبر کے ساتھ دی جاتی ہے۔ ترجمۂ معانی کو ہمیشہ ترجمے ہی کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔
حدیث
ہر روایت کتاب اور نمبر کے حوالے سے دی جاتی ہے۔ جہاں درجۂ صحت بات کے لیے اہم ہو، وہاں ہم وہ بھی بتاتے ہیں اور یہ بھی کہ یہ حکم کس محدث کا ہے۔ ہم ضعیف روایت کو ثابت شدہ بنا کر پیش نہیں کرتے۔
تاریخ
تاریخی دعوے اپنے ماخذ کے ساتھ آتے ہیں، اور ہم بتاتے ہیں کہ شواہد کہاں تک ساتھ دیتے ہیں۔ تحقیقی مضامین میں ہم دعووں کو ثابت، روایتی یا متنازع کے درجوں میں رکھتے ہیں، تاکہ قاری دیکھ سکے کہ کیا دستاویزی ہے، کیا روایت سے منقول ہے اور کس پر اختلاف ہے۔
اختلافِ رائے
جہاں اہلِ علم کا اختلاف ہو، وہاں ہم بڑے اقوال کو انصاف کے ساتھ اور ان کے قائلین کی نسبت سے پیش کرتے ہیں، کسی ایک رائے کو واحد رائے بنا کر نہیں۔
زاویۂ نظر
ہم اسلامی روایت کے اندر سے اور اس کے احترام کے ساتھ لکھتے ہیں۔ یہی احترام ہمیں جانچ پر آمادہ کرتا ہے۔ ہم تاریخ کی مدح سرائی نہیں کرتے، اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔
تصاویر
ہم نبی کریم ﷺ کی کبھی تصویر کشی نہیں کرتے۔ ہماری فلموں اور صفحات کی تصاویر، بشمول مصنوعی ذہانت سے بنی تصاویر، صرف منظر کشی کے لیے ہیں؛ وہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ کوئی شخص یا مقام واقعی کیسا تھا۔
مسودے اور جانچ
جن صفحات کی علمی جانچ ابھی مکمل نہیں ہوئی، ان پر واضح طور پر ”مسودہ“ درج ہوتا ہے۔ جانچ مکمل ہونے پر یہ نشان ہٹا دیا جاتا ہے۔
تصحیح
جب ہم سے غلطی ہو تو ہم کھلے عام اس کی تصحیح کرتے ہیں۔ دیکھیے ہماری تصحیح کی پالیسی۔
آخری بار تازہ کیا گیا: ۳۱ اکتوبر ۲۰۲۶ء